Wednesday, March 6, 2013
تعارف از مفتی سعید احمد پالنپوری
شائع کنندہ
مکتبہ حجاز
مفتی سعید احمد پالن پوری دامت بر کاتہم شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند کی ولادت 1362ھ مطابق 1942ء میں ہوئی ،آپ جناب یو سف صاحب کے فر زند اور مو ضع ‘‘ کالیٹرہ ‘‘ضلع بناس کانٹھا‘‘ ( شمالی گجرات) کے رہنے والے ہیں آپ کے والدین نے آپ کا نام ‘‘احمد‘‘ رکھا تھا ، لیکن جب آپ نے مدرسہ مظا ہر علوم سہارنپور میں داخلہ لیا تو اپنے نام کے شروع میں ‘‘سعید ‘‘ کا اضافہ کر دیا ، اس طرح آپ کا پورا نام ‘‘سعید احمد‘‘ ہو گیا ،اس وقت دیوبند میں اپنے ذاتی مکان میں اقامت پذیر ہیں ۔
آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے وطن گجرات ہی میں ہوئی ،آپ کی ‘‘بسم اللہ‘‘ آپ کے والد ماجد نے کرائی اور ناظرہ ودینیات وغیرہ کی تعلیم آپ نے وطن کے مکتب میں حاصل کی ، پھر آپ دارالعلوم ‘‘چھاپی‘‘ تشریف لے گئے اور وہاں فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں ، دارالعلوم چھاپی میں آپ کا قیام چھ ماہ رہا ، پھر آپ مولانا نذیر احمد پالن پوری کے مدرسہ میں داخل ہوئے اور وہاں عربی درجہ کی شرح جامی تک تعلیم حاصل کی ، وہاں محمد اکبر پالن پوری اور مولاناہاشم بخاری آپ کے خاص استاد تھے ۔
1377ھ میں آپ نے مظاہر علوم سہارنپور میں داخلہ لیا ، نحو اور منطق وفلسفہ کی بیشتر کتابیں آپ نے وہیں پڑھیں ، 1380ھ مطابق 1960ء میں آپ نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اورحدیث وتفسیر اور فقہ کے علاوہ دیگر کئی فنون کی کتابیں آپ نے یہیں پڑھیں ، 1382ھ مطابق 1962ء میں دورہ حدیث شریف سے فارغ ہو ئے اور سالانہ امتحان میں امتیازی نمبرات حاصل کئے ، پھر اگلے تعلیمی سال ( یکم ذیقعدہ 1382ھ ) میں شعبہ افتاء میں داخلہ ہوا اور فتاویٰ نویسی کی تربیت حاصل کی ۔
تکمیل افتاء کے بعد 1384 ح میں دارالعلوم اشرفیہ راندیر ( سورت) میں علیا کے مدرس مقرر ہوئے ، یہاں تقریبا دس سال تدریسی خدمات انجام دی ، پھر دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے معزز رکن مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی تجویز پر 1393ھ میں دارالعلوم دیوبند کے مسند درس وتدریس کے لئے آپ کا انتخاب عمل میں آیا اور تا ہنوز دارالعلوم میں خدمت انجام دے رہے ہیں ، دارالعلوم میں مختلف فنون کی کتابیں پڑھانے کے ساتھ سالہا سال سے ترمذی شریف جلد اول اور طحاوی شریف کے اسباق آپ سے متعلق ہیں ، آپ کے اسباق بے حد مقبول ، مرتب اور معلومات سے بھر پور ہو تے ہیں طلبہ میں عموما آپ کی تقریر نوٹ کر لینے کا رجحان پا یا جاتا ہے اور آپ کی تقریر میں اتنا ٹہراؤاور اتنی شفافیت ہو تی ہے کہ لفظ بلفظ اسے نوٹ کر لینے میں کسی طرح کی دشواری پیش نہیں آتی ، دارالعلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین حضرت مولانا نصیر آحمد خانصاحب رحمۃ اللہ علیہ کی علالت کے بعد (1429ھ مطابق 2008 )سے بخاری شریف جلد اول کا درس بھی آپ سے متعلق کر دیا گیا اس وقت آپ دارالعلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین ہیں ، اوقات کی پابندی اور کاموں میں انہماک آپ کے اہم قابل تقلید اوصاف ہیں ۔
آپ کا مزاج شروع ہی سے فقہی رہا ہے اور فقہ وفتاویٰ میں امامت کا درجہ رکھنے والے دارالعلوم دیوبند جیسے ادارہ سے تکمیل افتاء کے بعد آپ کے فقہی ذوق میں اور بھی چار چاند لگ گئے ، ترمذی شریف کے درس کے دوران بڑی خوبی اور اعتماد کے ساتھ فقہی با ریکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، فقہی سمیناروں میں آپ کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی اور آپ کے مقالات کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مجموعہ فتاویٰ‘‘ امداد الفتاویٰ‘‘ پر آپ نے گرانقدر حاشیہ بھی لکھا ہے ، نہز آپ کی فقہی مہارت اور رائے قائم کرنے میں حد درجہ حزم واحتیاط ہی کی وجہ سے دارالافتاء دارالعلوم کے خصوصی بنچ میں آپ کا نام نمایاں طور پر شامل ہے ۔
آپ نے درس وتدریس کے ساتھ تصنیف وتالیف میں بھی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ،آپ کی بہت سی کتابیں دارالعلوم سیمت مختلف دینی مدارس میں شامل نصاب ہیں ۔ آپ کی چند کتابوں کی فہرست یہان ملاحظہ کی جاسکتی ہ
Wednesday, January 30, 2013
تعارف "نقوش حيات"
شائع کنندہ
مکتبہ حجاز
استاذ الاساتذہ، صدر المدرسین، شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا نصیر احمد خان صاحب رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ کاملۃ ونور اللہ مرقدہ ان خوش بخت، منتخب اور برگزیدہ شخصیات میں سے تھے جنکو اللہ تعالٰی نے طویل خدمت دین کا موقعہ نصیب فرمایا، یہی وجہ ہے کہ آج کے بڑے بڑے اساتذہ بھی انکے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے والوں میں سے ہیں ـ پچھلے دنوں چمنستان دیوبند میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا آیا اور حضرت مولانا قاری شفیق الرحمن کے لائق و فائق صاحب زادے و خلف الصدق مولانا خلیل الرحمن صاحب زید مجدہ نے حضرت رحمہ اللہ کی مکمل، مفصل اور دس ابواب پہ مشتمل ایک سوانح مرتب کرکے حضرت رحمہ اللہ کی خدمت میں جماعت دیوبند کے ہر اس فرد کی طرف سے نذرانۂ عقیدت پیش کیا جس نے حضرت رحمہ اللہ کے علمی سمندر سے اپنی تشنہ لبی دور کی ہے، مؤلف زید مجدہ نے حضرت والا تبار رحمہ اللہ کی زندگی کے کئ پہلووں اور گوشوؤں کو بڑی محنت اور عرق ریزی سے چھانا پھٹکا اور بڑے سلیقے سے انکو قارئین کے سامنے پیش کیاـ مؤلف کتاب و سوانح نگار کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
راقم الحروف کو حضرت شیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان صاحب سے بچپن ہی سے عقیدت و محبت تھی، نو یا دس سال کی عمر تھی اسی وقت سے والد محترم حضرت مولانا قاری شفیق الرحمن صاحب کے توسط سے آپکی زیارت و ملاقات کا برابر موقع ملتا رہا، اس عرصہ میں آپکو بہت قریب سے دیکھا، پرکھا اور برتا، جس سے آپکی عقیدت و محبت دل میں راسخ ہوتی چلی گئ، آپکی دلآویز اور حسین شخصیت میں پنہاں اوصاف و کمالات، آپکے خاندانی احوال، تعلیم و تربیت، زمانۂ تدریس، آپکے چند نامور اور مشہور تلامذہ کا تعارف، ارشاد و ملفوظات اور کوئ اہل علم کے تاثراتی مضامین پر مشتمل یہ سوانح درحقیقت عقیدت و محبت اور رشتۂ تلمذ کے پاکیزہ جذبات کا اظہار ہے ـ یوں بھی کہہ سکتےہیں کہ یہ سوانح اس عظیم المرتبت شخصیت کی خدمت میں ایک حقیر سا نذرانۂ عقیدت ہے جس کے احسانات سے جماعت دیوبند کا ہر فرد زیر بار ہے اور جس نے نصف صدی سے زیادہ تک اپنے علمی سمندر سے امت کے ایک بڑے طبقے کو سیراب کیا
کتاب پر ناشر کا نام نہیں لکھا گیا ہے، قیمت دو سو بچیس روپے درج کی گئ ہے
راقم الحروف کو حضرت شیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان صاحب سے بچپن ہی سے عقیدت و محبت تھی، نو یا دس سال کی عمر تھی اسی وقت سے والد محترم حضرت مولانا قاری شفیق الرحمن صاحب کے توسط سے آپکی زیارت و ملاقات کا برابر موقع ملتا رہا، اس عرصہ میں آپکو بہت قریب سے دیکھا، پرکھا اور برتا، جس سے آپکی عقیدت و محبت دل میں راسخ ہوتی چلی گئ، آپکی دلآویز اور حسین شخصیت میں پنہاں اوصاف و کمالات، آپکے خاندانی احوال، تعلیم و تربیت، زمانۂ تدریس، آپکے چند نامور اور مشہور تلامذہ کا تعارف، ارشاد و ملفوظات اور کوئ اہل علم کے تاثراتی مضامین پر مشتمل یہ سوانح درحقیقت عقیدت و محبت اور رشتۂ تلمذ کے پاکیزہ جذبات کا اظہار ہے ـ یوں بھی کہہ سکتےہیں کہ یہ سوانح اس عظیم المرتبت شخصیت کی خدمت میں ایک حقیر سا نذرانۂ عقیدت ہے جس کے احسانات سے جماعت دیوبند کا ہر فرد زیر بار ہے اور جس نے نصف صدی سے زیادہ تک اپنے علمی سمندر سے امت کے ایک بڑے طبقے کو سیراب کیا
کتاب پر ناشر کا نام نہیں لکھا گیا ہے، قیمت دو سو بچیس روپے درج کی گئ ہے