Monday, September 12, 2011

اہم تصانیف: حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری


1: تحفۃ الالمعی شرح سنن الترمذی: یہ حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدظلہ کے دروسِ ترمذی کا مجموعہ ہے، آٹھ جلدوں میں طبع ہوچکا ہے، جو ترمذی شریف جلد ثانی مع شمائل ترمذی پر مشتمل ہے، مقدمہ: نایاب اور قیمتی معلومات پر مشتمل ہے اور شرح کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مدارکِ اجتہادبیان کئے گئے ہیں، نیز ترمذی شریف کی عبارت صحیح اعراب کے ساتھ دی گئی ہے اور کتاب کا ہر ہر لفظ حل کیا گیا ہے، شروع میں کتاب العلل کی شرح بھی ہے، جو ایک قیمتی سوغات ہے۔ غرض یہ شرح ہر مدرس کی ضرورت اور حدیث کے ہر طالب علم کی حاجت ہے۔
2: رحمۃ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ:  حضرت الامام المجدد الشاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ عالم اسلام کی ان برگزیدہ علمی شخصیتوں میں سے ہیں جن کی شہرت زمان ومکان کی قیود میں محدود نہیں ، وہ اگرچہ ہندوستان میں پیدا ہوئے مگر ان کی شخصیت تمام عالم اسلام کا سرمایہ ہے۔ ان کی کتابیں اور انکے علوم ومعارف اسلامی تاریخ کا انمول خزانہ ہیں۔ حضرت الامام کی بہت سی کتابیں مختلف موضوعات پر ہیں لیکن حکمت شرعیہ اور فلسفۂ اسلام پر ان کی کتاب ''حجۃ اللہ البالغہ'' اپنی نظیر آپ ہے۔ حجۃ اللہ البالغہ کے متعدد تراجم ہوچکے ہیں اور بعض بازار میں دستیاب بھی ہیں لیکن ان سے کتاب حل نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیرعطا فرمائیں دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدظلہ کو جنھوں نے نہایت محنت کے ساتھ اس کتاب کی شرح لکھی۔ شرح سے علماء، طلباء اورپڑھے لکھے لوگ بھی خاطر خواہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔یہ شرح پانچ جلدوں میں اور تین ہزار چھ سو صفحات میں مکمل ہوئی ہے۔ ظاہری طور پر وہ تمام محاسن کتاب میں موجود ہیں جو ہونے چاہئیں ، کتابت روشن اور واضح ہے، کمپیوٹر کتابت ہے، مگر جلی خط ہونے کی وجہ سے ضعیف نگاہ والے بھی بآسانی مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ کاغذ نہایت اعلی اور قیمتی ہے، طباعت بھی بہت عمدہ ہے، جلد مضبوط، دلکش اور خوب صورت ہے۔ اور قیمت اتنی کم ہے کہ اس ضخامت کی کتاب بازار میں اس قیمت پر دستیاب نہیں۔
           نیز حضرت مفتی صاحب نے ایک احسان امت پر یہ بھی کیا ہے کہ حجۃ اللہ البالغہ پر عربی حاشیہ تحریر فرمایا ہے۔ جو دو جلدوں میں طبع ہوگیا ہے عربی خواں حضرات حاشیہ کی مدد سے کتاب حل کرسکتے ہیں اور درس میں بھی اس کو سامنے رکھا جاسکتا ہے۔ 
3: کامل برہانِ الٰہی تبیین وتشریح حجۃ اللہ البالغہ: رحمۃ اللہ الواسعہ میں مفتی صاحب نے عنوان قائم کرکے جو حجۃ اللہ کی آسان شرح کی ہے اس کو علحدہ کرلیا ہے اور ہلکی چار جلدوں میں مذکورہ نام سے یہ نئی کتاب تیار کی ہے اس میں حجۃ اللہ البالغہ کی عربی عبارت، ترجمہ، لغات اور تشریحات شامل نہیں۔ اب یہ عام مطالعہ کی ایک بہترین کتاب بن گئی ہے جو لوگ حجۃ اللہ حل نہیں کرنا چاہتے صرف اس کے مضامین پڑھنا چاہتے ہیں ان کے لئے یہ قیمتی سوغات ہے، زبان آسان اور سلیس ہے، ہر قاری بے تکلف اس کا مطالعہ کرسکتا ہے۔
4: ہادیہ شرح کافیہ: کافیہ: علم نحو کا مشہور ومقبول متنِ متین ہے، اس کی عبارت سلیس اورآسان ہے، مگر اس آسان کتاب کو طریقۂ تدریس نے مشکل بنادیا ہے۔ حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدظلہ نے اس پر ایک کام یہ کیا ہے کہ کافیہ کو مفصل ومرقم  کیا ہے
اس کے ہر مسئلہ اور ہر قاعدہ کو علحدہ کیا ہے، پھر اس کی نہایت آسان شرح لکھی ہے اورشروع میں کافیہ پڑھانے کا طریقہ بیان کیا ہے، اور قدیم طرز سے ہٹ کر کافیہ کس طرح طلبہ کےذہن نشین کی جائے اس کے لئے'' مشقی سوالات'' دئیے گئے ہیں… پھر دوسری شرح الوافیۃ عربی میں لکھی ہے اور اس پر وہی مفصل ومرقم متن ہے تاکہ طلبہ درس میں اس کو سامنے رکھ کر پڑھ سکیں۔
5: آسان نحو( دو حصے) نحو کی ابتدائی عربی کتابوں میں تدریج کا لحاظ نہیں رکھا گیا، یہ کتاب اسی ضرورت کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ یہ دوحصے پڑھاکر علم نحو کی کوئی بھی عربی کتاب شروع کرائی جاسکتی ہے۔ زبان آسان اور انداز بیان سلجھا ہوا ہے۔ 
6: آسان صرف ( تین حصے) آسان نحو کے انداز پر تدریج کا لحاظ کرکے یہ رسالے مرتب کئے گئے ہیں۔ پہلے حصہ میں گردانیں ہیں قواعد برائے نام ہیں اور دوسرے حصہ میں قواعد مع گردان دئیے گئے ہیں۔ اور ابواب کی صرف صغیر دی گئی ہے۔ اور تیسرے حصہ میں تعلیلات اور ہفت اقسام کی گردانیں ہیں،بہت آسان اور مفید نصاب ہے۔
7: آسان منطق: ترتیب تیسیر المنطق ۔ دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس میں تیسیر المنطق کی جگہ اب یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ اس میں تیسیر المنطق ہی کو سہل کرکے مرتب کیا گیا ہے، کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
8: تفسیر ہدایت القرآن: یہ مقبول عام وخاص تفسیر ہے۔ پارہ30و1ـ9 حضرت مولانا محمد کاشف الہاشمی  کے لکھے ہوئے ہیں اور 10 تا 18 مفتی صاحب نے لکھے ہیں ، آگے کام جاری ہے اس تفسیر میں ہر ہر قرآنی کلمہ کے الگ الگ معنی دئیے گئے ہیں اور حاشیہ میں حل لغات اور ضروری ترکیب بھی ہے ۔
9: الفوز الکبیر(جدید ترجمہ) قدیم ترجمہ میں سُقْم تھا، اس کو سنوارا گیا ہے، بغلی  عناوین بڑھائے گئے  ہیں اور ضروری حاشیہ لکھ کر عمدہ کاغذ پر کتاب طبع کی گئی ہے۔دار العلوم دیوبندمیں اب یہی ترجمہ پڑھایا جاتاہے۔ متوسط استعداد کے طلبہ از خود بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اس کی آسان اردو شرح الخیر الکثیرمولانا مفتی محمد امین صاحب پالن پوری نے لکھی ہے، اور عربی شرح العون الکبیر ہے۔
10: العون الکبیر: یہ الفوز الکبیر کی عربی شرح ہے، پہلے قدیم تعریب کے مطابق تھی، اب جدید تعریب کے مطابق کردی گئی ہے۔
11: فیض المنعم: مقدمہ مسلم شریف کی اردو شرح ہے۔ اس میں ضروری ترکیب اورحل لغات بھی ہیں، غرض کتاب حل کرنے کے لئے ہر ضروری بات اس کتاب میں موجود ہے اور کوئی غیر ضروری بات نہیں لی گئی۔
12: تحفۃ الدرر: یہ نخبۃ الفکر کی بہترین اردو شرح ہے، کتب حدیث پڑھنے والوں خصوصاً مشکوٰة شریف پڑھنے والوں کے لئے نہایت قیمتی سوغات ہے
13: مبادیٔ الفلسفہ: اس میں فلسفہ کی تمام اصطلاحات کی عربی زبان میں مختصراورعمدہ وضاحت کی گئی ہے۔ دار العلوم دیوبند اور  دیگر مدارس عربیہ کے نصاب میں داخل ہے۔
14: معین الفلسفہ: یہ مبادیٔ الفلسفہ کی بہترین اردو شرح ہے، اور حکمت وفلسفہ کے پیچیدہ مسائل کی عمدہ وضاحت پر مشتمل  اور معلومات افزا کتاب ہے۔
قیمتیں جاننے کیلئے یہاں کلک کیجئے

Thursday, July 28, 2011

تحفۃ القاری کی جلد دوم بھی منظر عام پر

اللہ کی  مسلسل کرم فرمائیوں کی وجہ سے آپ حضرات کو یہ اطلاع دیتے ہوئے پھر خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بخاری کی شرح تحفۃ القاری کی جلد دوم بھی مارکیٹ میں آچکی ہے

یہ شرح دار العلوم دیوبند  کے صدر مدرس اور شیخ الحدیث  مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب دامت برکاتہم کے دروس پہ مشتمل ہے جو حضرت نے درسگاہ میں طلبہ کے دسامنے دئیے ہیں ۔ ان دروس کی خاص بات صاحب درس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک صفحہ کو دیکھنا ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے خود اس میں حک و فک کیا ہے، ایک ایک لفظ کو پڑھا ہے اور اشاعت کے قابل بنایا ہے

اس شرح کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ تو اتنی طویل ہے کہ آدمی اس سے استفادہ  ہی نہ کر  سکے اور نہ اتنی مختصر ہے کہ کھولتے ہی ختم ہوجائے۔ پوری کتاب میں راہ اعتدال کو پکڑ کے رکھا گیا ہے اور کہیں آپ کو تشنگی یا بوریت محسوس نہیں ہوگی۔ بالخصوص وہ حضرات جو مدارس میں اس اہم کتاب کو پڑھا رہے ہیں یا حدیث کی کوئی بھی کتاب پڑھا رہے ہیں  انکے لئے یہ کتاب خاصہ کی چیز ہے

اس کتاب کی خوبی بیان کرتے ہوئے مرتب  کتاب رقم طراز ہیں
حدیث پڑھانے والوں کی ایک عادت یہ چلی آرہی ہے کہ سال کے شروع میں اتنی لمبی تقریر کرتے ہیں کہ زیادہ تر تطویل کی وجہ سے طلبہ کیلئے غیر مفید اور ناقابل فہم ہوتی ہیں اور سال کے آخر میں چونکہ کتاب کا اکثر حصہ باقی رہ جا تا ہے  اورختم کرانا ضروری ہوتا ہے اس لئے اتنی مختصر تقریر ہوتی ہے  کہ اختصار کی وجہ سے طلبہ کے پلے کچھ نہیں پڑتا بلکہ بعض اوقات تو صرف عبارت خوانی پہ اکتفا کیا جاتا ہے  حضرت الاستاذ کے درس کی اہم خوبی یہ ہے کہ  پورا سال درس اس ٹہراؤ اور ترتیب سے ہوتا ہے کہ کتاب بحسن و خوبی مکمل ہوجاتی ہے ۔ اور موصوف کے درس کی دوسری خوبی یہ ہے کہ  آپ جو بھی کتاب پڑھاتے ہیں اس کا ایک ایک حرف حل کرتے ہیں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں چھوڑتے

مرتب کتاب مزید لکھتے ہیں

حضرت الاستاذ درس میں سنت کے مطابق ٹہر ٹہر کر کلام فرماتے ہیں اور دقیق مضامین دو تین بار بیان فرماتے ہیں۔ کبھی بلفظہ اور کبھی الفاظ بدل کر ۔اس لئے دقیق علمی مضامین بھی قابل فہم بن جاتے ہیں ۔ ائمہ سلف، ائمہ مجتہدین اور محدثین کرام کا ذکر انتہائی ادب و عظمت کے ساتھ کرتے ہیں اور فقہاء کے مذاہب اور دلائل کی وضاحت میں جو طریقہ اختیار فرماتے ہیں وہ عام فہم ہونے کے ساتھ انوکھا بھی ہوتا ہے ۔ عام طور پر درس میں مجتہدین کے مذاہب میں تقابل اور ترجیح قائم کی جاتی ہے اور ائمہ کے مذاہب اور ادلہ بیان کرتے وقت بعض مرتبہ اعدال قائم نہیں رہتا۔ حضرت مفتی صاحب اس کو پسند نہیں کرتے وہ فرمایا کرتے ہیں کہ جب چاروں مذاہب بر حق ہیں تو ان میں ترجیح قائم کرنے کا کیا فائدہ؟حق بہرحال حق ہے اس میں تشکیک اور مراتب نہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اختلاف کی بنیاد نکھاری جائے کیونکہ مجتہدین امت کے سامنے سارے دلائل ہیں ان کے سامنے ایک طرفہ دلائل نہیں ہیں پھر اختلاف کیوں ہوا؟ اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔  اس لئے حضرت مد ظلہ ایسا طریقہ اختیار فرماتے ہیں کہ ائمہ کرام کے دلائل بھی سامنے آجاتے ہیں اور اختلاف کی بنیاد  بھی نکھر جاتی ہے اور ائمہ حق کا مقام و مرتبہ بھی ملحوظ رہتا ہے اور پڑھنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ تمام راستے ایک ہی منزل کی طرف رواں دواں ہیں اور چلنے والا جس راہ کو بھی اختیار کرے گا منزل مقصود تک پہنچ جائے گا

فی الحال دو جلدیں بازار میں آچکی ہیں جن میں صفۃ الصلاۃ تک کے ابواب کو گھیرا گیا ہے۔ کل صفحات اس  دوسری جلد میں591 ہیں۔ ظاہری طور پر وہ تمام محاسن کتاب میں موجود ہیں جو  ہونے چاہئیں۔ کتابت روشن اور واضح ہے۔ کمپیوٹر کتابت ہے مگر جلی خط ہونے کی وجہ سے ضعیف نگاہ والے بھی بآسانی مطالعہ کرسکتے ہیں۔ کاغذ نہایت اعلی اور قیمتی ہے ۔ طباعت بھی عمدہ ہے ۔جلد مضبوط،دلکش اور خوب صورت ہے۔ اور قیمت اتنی کم ہے  کہ اس ضخامت کی کتاب بازار میں اس قیمت پر دستیاب نہیں

آپ دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں اس کتاب کے حصول کیلئے ہم سے رجو ع فرمائیں۔ ہمیں آپکی خدمت کرتے ہوئے خوشی ہوگی۔ رابطہ نمبر یہ ہے
9997866990
 qasimahmad78@gmail.com
مکتبہ کھلنے کا ٹائم صبح نو سے شام نو بجے تک  ہے4:38

اب تک کے مہربانان کرام